جانے کیوں لوگ غم سے ڈرتے ہیں

اثر اکبرآبادی

جانے کیوں لوگ غم سے ڈرتے ہیں

اثر اکبرآبادی

MORE BYاثر اکبرآبادی

    جانے کیوں لوگ غم سے ڈرتے ہیں

    ہم تو آلام میں نکھرتے ہیں

    جو خوشی کے سراب میں گم ہیں

    وہ خوشی سے ہی اپنی مرتے ہیں

    غم بھی رکھتے ہیں ساتھ خوشیوں کے

    زندگی میں جو رنگ بھرتے ہیں

    ٹوٹ جاتے ہیں سب غموں کے حصار

    موتی خوشیوں کے جب بکھرتے ہیں

    لاکھ خوشیاں انہیں مبارک ہوں

    ہم غموں سے ہی دل کو بھرتے ہیں

    ڈوب جاتے ہیں جو کنارے پر

    وہ کہاں ڈوب کر ابھرتے ہیں

    حالت دل بتائیں ہم ان کو

    کیسے دن رات اب گزرتے ہیں

    کھل ہی جاتے ہیں ان پہ عیب و ہنر

    آئینے سے جو بات کرتے ہیں

    آئنہ دیکھتا ہے حیرت سے

    وہ جس انداز سے سنورتے ہیں

    کیا بھروسہ ہے زندگی کا اثرؔ

    روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Uran Kate Paron ki (Pg. 40)
    • Author : Asar Akbarabadi
    • مطبع : Asar Akbarabadi, Canada (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے