جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا

عارف شفیق

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا

عارف شفیق

MORE BYعارف شفیق

    جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا

    میں نے اپنے لہجے کو تلوار کیا

    میں نے اپنے پھول سے بچوں کی خاطر

    کاغذ کے پھولوں کا کاروبار کیا

    میری محنت کی قیمت کیا دے گا تو

    میں نے دشت و صحرا کو گلزار کیا

    میں فرہادؔ یا مجنوں کیسے بن جاتا

    میں شاعر تھا میں نے سب سے پیار کیا

    اس کی آنکھیں خواب سے بننے لگتی ہیں

    جب بھی میں نے چاہت کا اظہار کیا

    اپنے پیچھے آنے والوں کی خاطر

    میں نے ہر اک رستے کو ہموار کیا

    اس کے گھر کے سارے لوگ مخالف تھے

    پھر بھی عارفؔ اس نے مجھ سے پیار کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY