جب بھی ماضی کے نظارے کو نظر جائے گی

ظفر انصاری ظفر

جب بھی ماضی کے نظارے کو نظر جائے گی

ظفر انصاری ظفر

MORE BY ظفر انصاری ظفر

    جب بھی ماضی کے نظارے کو نظر جائے گی

    شام اشکوں کے ستاروں سے سنور جائے گی

    کیا بتاؤں کہ کہاں تک یہ نظر جائے گی

    ایک دن حد تعین سے گزر جائے گی

    جب بھی اس کے رخ روشن کا خیال آئے گا

    چاندنی دل کے شبستاں میں اتر جائے گی

    ہر ستم کرنے سے پہلے یہ ذرا سوچ بھی لے

    میں جو بکھرا تو تری زلف بکھر جائے گی

    میں یہ سمجھوں گا مجھے مل گئی معراج وفا

    زندگی گر تری یادوں میں گزر جائے گی

    اس طرف اپنی محبت کی کہانی ہوگی

    یہ ہوا بوئے وفا لے کے جدھر جائے گی

    کیا خبر تھی کہ ظفرؔ روح مری دنیا میں

    آرزوؤں سے کچل کر کبھی مر جائے گی

    مآخذ:

    • کتاب : Tez Hawa ke Jhonke (Pg. 55)
    • Author : Zafar Ansari Zafar
    • مطبع : Maktaba Jamia , Jamia Nagar, New Delhi (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY