جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیا

یاسمین سحر

جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیا

یاسمین سحر

MORE BYیاسمین سحر

    جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیا

    عجیب سایہ نحوست کا گھر پہ بیٹھ گیا

    یہی کہانی تھی بس اپنی بادشاہت کی

    فقیر ایک اٹھا ایک در پہ بیٹھ گیا

    کہیں تو شہر میں ان بن کسی کے ساتھ ہوئی

    جو دنیا چھوڑ کے ساری وہ گھر پہ بیٹھ گیا

    تکلفات میں کچھ تو لحاظ باقی تھا

    ذرا سی ڈھیل بھی کیا دی وہ سر پہ بیٹھ گیا

    کسی کی جھوٹی اڑائی ہوئی سی بات سنی

    زمانہ کان لگا کر خبر پہ بیٹھ گیا

    سوار ہم ہوئے ایسے ہوا کے کاندھے پر

    ہمارا پاؤں بھی جیسے سفر پہ بیٹھ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY