جب خبر ہی نہ کوئی موسم گل کی آئی

نسیم سحر

جب خبر ہی نہ کوئی موسم گل کی آئی

نسیم سحر

MORE BYنسیم سحر

    جب خبر ہی نہ کوئی موسم گل کی آئی

    کاغذی پھول پہ کچھ سوچ کے تتلی آئی

    سبز پتوں نے بھی شاخوں سے بغاوت کر دی

    آج اس شہر میں کس زور کی آندھی آئی

    اب یہ بستی ہوئی دیواروں کی کثرت کا شکار

    اب یہاں رہنے میں بے طرح خرابی آئی

    قہقہہ شب نے لگایا ہے بڑے طنز کے ساتھ

    صبح جب اپنی رہائی پہ بھی روتی آئی

    آنکھ اک ابر کے ٹکڑے کو ترس جاتی تھی

    بارشوں سے جہاں اب اتنی تباہی آئی

    رات بھر صبح کی امید پہ زندہ تھا مریض

    صبح ہوتے ہی اسے آخری ہچکی آئی

    مر گیا حبس کی بستی میں جوں ہی کوئی نسیمؔ

    نوحہ خوانی کو وہاں تازہ ہوا بھی آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے