جب مری گردن پہ اس نے اپنا خنجر رکھ دیا

ساجد صفدر

جب مری گردن پہ اس نے اپنا خنجر رکھ دیا

ساجد صفدر

MORE BYساجد صفدر

    جب مری گردن پہ اس نے اپنا خنجر رکھ دیا

    لوگ اٹھے اور اس کے تاج سر پر رکھ دیا

    بوند ہی کافی تھی جب سیراب ہونے کے لیے

    خشک ہونٹوں پر یہ تم نے کیوں سمندر رکھ دیا

    اب بھٹکتے پھر رہے ہیں راحت جاں کے لیے

    یہ کمی اپنی ہے جو سب کچھ بھلا کر رکھ دیا

    کھا کے ٹھوکر آ گیا اب مجھ کو چلنے کا ہنر

    شکریہ تم نے جو میری رہ میں پتھر رکھ دیا

    سوچتا ہوں مر نہ جاؤں بوجھ سے دب کر کہیں

    آج اک کم ظرف نے احسان سر پر رکھ دیا

    طنزیہ لہجے میں ہم سے بات مت کیجے حضور

    ایسا لگتا ہے کسی نے دل پہ نشتر رکھ دیا

    جس طرح اخبار پڑھ کے کوئی رکھ دے اک طرف

    میں نے ساجدؔ اس طرح دنیا کو پڑھ کر رکھ دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY