جب منڈیروں پہ پرندوں کی کمک جاری تھی

حماد نیازی

جب منڈیروں پہ پرندوں کی کمک جاری تھی

حماد نیازی

MORE BY حماد نیازی

    جب منڈیروں پہ پرندوں کی کمک جاری تھی

    لفظ تھے لفظوں میں احساس کی سرداری تھی

    اب جو لوٹا ہوں تو پہچان نہیں ہوتی ہے

    کہاں دیوار تھی دیوار میں الماری تھی

    وہ حویلی بھی سہیلی تھی پہیلی جیسی

    جس کی اینٹوں میں مرے خواب تھے خودداری تھی

    آخری بار میں کب اس سے ملا یاد نہیں

    بس یہی یاد ہے اک شام بہت بھاری تھی

    پوچھتا پھرتا ہوں گلیوں میں کوئی ہے کوئی ہے

    یہ وہ گلیاں ہیں جہاں لوگ تھے سرشاری تھی

    پیڑ تھے چند مکانوں میں زمانوں جیسے

    جن کی چھاؤں میں مری روح کی لو جاری تھی

    کیا بھلے دن تھے ہمیں کھیل تھا ہنسنا رونا

    سانس لینا بھی ہمیں جیسے اداکاری تھی

    بس کوئی خواب تھا اور خواب کے پس منظر میں

    باغ تھا پھول تھے خوشبو کی نموداری تھی

    ہم نے دیکھا تھا اسے اجلے دنوں میں حمادؔ

    جن دنوں نیند تھی اور نیند میں بیداری تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY