جب نظر اس کی آن پڑتی ہے

محمد رفیع سودا

جب نظر اس کی آن پڑتی ہے

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    جب نظر اس کی آن پڑتی ہے

    زندگی تب دھیان پڑتی ہے

    جھیل لیتے ہیں عاشق اے فرہاد

    جس کے سر جیسی آن پڑتی ہے

    ہے جفا سے غرض اسے اتنی

    کہ وفا امتحان پڑتی ہے

    نظر ان مہ وشاں کی ہے ظالم

    کیا غضب آن بان پڑتی ہے

    قد زاہد نظر میں چلے بعد

    اتری سی کچھ کمان پڑتی ہے

    بات اس دل کے درد کی یارو

    گفتگو میں ندان پڑتی ہے

    ایک کے منہ سے جس گھڑی نکلی

    پھر تو سو کی زبان پڑتی ہے

    لیکن اتنا کوئی کہے مجھ سے

    کبھو اس کے بھی کان پڑتی ہے

    بے ثباتی زمانے کی ناچار

    کرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے

    گرم جوشیٔ دوستاں بہ نظر

    آتش کاروان پڑتی ہے

    دل سے پوچھا یہ میں کہ عشق کی راہ

    کس طرف مہربان پڑتی ہے

    کہا ان نے کہ نے بہ ہندستاں

    نے سوئے اصفہان پڑتی ہے

    یہ دوراہا جو کفر و دیں کا ہے

    دونوں کے درمیان پڑتی ہے

    منزلت شعر کی ترے سوداؔ

    یوں بہ وہم و گمان پڑتی ہے

    نہیں عیسیٰؔ تو پر سخن سے ترے

    تن بے جاں میں جان پڑتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY