جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا

بشیر مہتاب

جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا

بشیر مہتاب

MORE BYبشیر مہتاب

    جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا

    تب سے مرے نصیب کا نقشہ بدل گیا

    شیریں تھا کتنا آپ کا انداز گفتگو

    دو چار سکے آتے ہی لہجہ بدل گیا

    کس کی زبان سے مجھے دیکھو خبر مجھے

    کیسے مرے حریف کا چہرہ بدل گیا

    ان کے بدلنے کا مجھے افسوس کچھ نہیں

    افسوس یہ ہے اپنا ہی سایہ بدل گیا

    جب سے بڑوں کی گھر سے حکومت چلی گئی

    جنت نما مکان کا نقشہ بدل گیا

    راہوں کی خاک چھانتا پھرتا ہوں آج تک

    رہبر بدل گیا کبھی رستہ بدل گیا

    کہتا ہے اس کے جانے سے کچھ بھی نہیں ہوا

    مہتابؔ جبکہ دل کا وہ ڈھانچہ بدل گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے