جب سے وہ میرے اپنے غیروں میں بٹ گئے
جب سے وہ میرے اپنے غیروں میں بٹ گئے
امید کے تو جیسے بادل ہی چھٹ گئے
غم یوں تو بانٹنے سے اب تک بڑھے ہی تھے
پر سنگ تیرے بانٹے تو یہ بھی گھٹ گئے
مشکل تھا کام ویسے یوں بھولنا اسے
اس کام سے مگر ہم کب کے نپٹ گئے
امداد میں تری تو حاضر بہت تھے نا
تو کیا ہوا اگر ہم پیچھے بھی ہٹ گئے
کتنے عجیب تھے وہ اپنے تعلقات
خود پھیلتے گئے پھر خود ہی سمٹ گئے
آئے تو تھے بہت سے یوں راستے میں ساتھ
منزل تھی دور تو پھر سب ہی پلٹ گئے
دن رات مانگتے تھے جس کو خدا سے ہم
اس کے بغیر ہی پھر دن رات کٹ گئے
تھے مدتوں سے بھوکے وہ جانور سبھی
سو زہر بھی پروسا تو سب جھپٹ گئے
رکھ کر یقیں خدا پر کچھ یوں ہوا کہ ہم
پیچھے نہیں ہٹے جو اک بار ڈٹ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.