Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب سے وہ میرے اپنے غیروں میں بٹ گئے

زان فرزان

جب سے وہ میرے اپنے غیروں میں بٹ گئے

زان فرزان

MORE BYزان فرزان

    جب سے وہ میرے اپنے غیروں میں بٹ گئے

    امید کے تو جیسے بادل ہی چھٹ گئے

    غم یوں تو بانٹنے سے اب تک بڑھے ہی تھے

    پر سنگ تیرے بانٹے تو یہ بھی گھٹ گئے

    مشکل تھا کام ویسے یوں بھولنا اسے

    اس کام سے مگر ہم کب کے نپٹ گئے

    امداد میں تری تو حاضر بہت تھے نا

    تو کیا ہوا اگر ہم پیچھے بھی ہٹ گئے

    کتنے عجیب تھے وہ اپنے تعلقات

    خود پھیلتے گئے پھر خود ہی سمٹ گئے

    آئے تو تھے بہت سے یوں راستے میں ساتھ

    منزل تھی دور تو پھر سب ہی پلٹ گئے

    دن رات مانگتے تھے جس کو خدا سے ہم

    اس کے بغیر ہی پھر دن رات کٹ گئے

    تھے مدتوں سے بھوکے وہ جانور سبھی

    سو زہر بھی پروسا تو سب جھپٹ گئے

    رکھ کر یقیں خدا پر کچھ یوں ہوا کہ ہم

    پیچھے نہیں ہٹے جو اک بار ڈٹ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے