جب یہ دعوے تھے کہ ہر دکھ کا مداوا ہو گئے

ابو محمد سحر

جب یہ دعوے تھے کہ ہر دکھ کا مداوا ہو گئے

ابو محمد سحر

MORE BYابو محمد سحر

    جب یہ دعوے تھے کہ ہر دکھ کا مداوا ہو گئے

    کس لیے تم باعث خون تمنا ہو گئے

    شوق کا انجام نکلا حسرت آغاز شوق

    راز بن جانے سے پہلے راز افشا ہو گئے

    اک نگاہ آشنا کا آسرا جاتا رہا

    آج ہم تنہائیوں میں اور تنہا ہو گئے

    تیرا ملنا اور بچھڑنا کیا کہیں کس سے کہیں

    ایک جان ناتواں پر ظلم کیا کیا ہو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY