جفائے یار کو ہم لطف یار کہتے ہیں

فگار اناوی

جفائے یار کو ہم لطف یار کہتے ہیں

فگار اناوی

MORE BY فگار اناوی

    جفائے یار کو ہم لطف یار کہتے ہیں

    خزاں کو اپنی زباں میں بہار کہتے ہیں

    وہ ایک سنتے نہیں ہم ہزار کہتے ہیں

    مگر فسانہ بہر اعتبار کہتے ہیں

    زمانہ قید کو سمجھے ہوئے ہے آزادی

    کسی کے جبر کو ہم اختیار کہتے ہیں

    قفس میں رہ کے مجھے یہ بھی امتیاز نہیں

    کسے خزاں کسے فصل بہار کہتے ہیں

    نفس نفس جو پیام حیات دیتی ہے

    اسی نظر کو تغافل شعار کہتے ہیں

    تمہارے حسن کی جس دل کو روشنی نہ ملے

    ہم ایسے دل کو چراغ مزار کہتے ہیں

    تری نگاہ تغافل سے دل نے پایا ہے

    وہ ایک کیف جسے انتظار کہتے ہیں

    محبت اور محبت میں آرزوئے وصال

    ہم اس بہار کو ننگ بہار کہتے ہیں

    خدنگ ناز ابھی ہے تمہاری چٹکی میں

    نہ جانے لوگ مجھے کیوں فگارؔ کہتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Harf-o-nava (Pg. 60)
    • Author : umesh bahadur sirivasto figaar unnavi
    • مطبع : Figaar Unnavi (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY