جفا پسندوں کو سنتے ہیں نا پسند ہوا

زیبا

جفا پسندوں کو سنتے ہیں نا پسند ہوا

زیبا

MORE BYزیبا

    جفا پسندوں کو سنتے ہیں نا پسند ہوا

    اب اور بھی دل مایوس درد مند ہوا

    مہ دو ہفتہ بنایا ہمیں نے عارض کو

    ہماری وجہ سے حسن آپ کا دو چند ہوا

    جدا جدا ہے مذاق اپنا اپنا دنیا میں

    ہمیں جو درد تو دل درد کو پسند ہوا

    وہ پھیر پھیر گئے توڑ توڑ کر اکثر

    یہ دل وہ ہے جو کئی بار درد مند ہوا

    کوئی ہزار کہے اپنی ہی یہ کرتا ہے

    ہمارا دل نہ ہوا کوئی خود پسند ہوا

    حباب کا یہ اشارہ ہے اہل غفلت سے

    ہوا وہ پست جو دنیا میں سر بلند ہوا

    ہوا ہے عشق میں کم حسن اتفاق ایسا

    کہ دل کو یار تو دل یار کو پسند ہوا

    ہلا دیا سر بام آج جا کے دل ان کا

    اثر کو نالۂ قلب حزیں کمند ہوا

    دکھایا دل کو یہ دن کبر و بے نیازی نے

    کہ ناز اٹھا کے کسی کے نیاز مند ہوا

    یہ کون دلبر نازک مزاج سے پوچھے

    پسند بھی دل زیبائے درد مند ہوا

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY