جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے

انیس انصاری

جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے

انیس انصاری

MORE BYانیس انصاری

    INTERESTING FACT

    28 جولائی 2001

    جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے

    الگ نقشے سے یہ معمار کیوں ہے

    خدا آزاد تھا حاکم کی حد سے

    خدا کے شہر میں سرکار کیوں ہے

    بہت آسان ہے مل جل کے بہنا

    ندی اور دھار میں پیکار کیوں ہے

    ہزاروں رنگ کے پھولوں سے کھنچ کر

    بنا ہے شہد تو بیکار کیوں ہے

    کسی بھی سمت سے آ کر پرندے

    سجائیں جھیل تو آزار کیوں ہے

    تری محفل میں سب بیٹھے ہیں آ کر

    ہمارا بیٹھنا دشوار کیوں ہے

    بنا کر رکھ تو گھر اچھا رہے گا

    تو مالک بن کرایہ دار کیوں ہے

    تمہارے ساتھ ہم آگے بڑھے تھے

    ہماری پیٹھ پر تلوار کیوں ہے

    خدا سے کیا رقابت ہے صنم کی

    رہ مسجد نظر میں خار کیوں ہے

    عبارت میں نہ کر تحریف بے جا

    ہمارے نام سے بیزار کیوں ہے

    پرندے کو جو موقع دو دکھا دے

    بندھے پر کا سفر لاچار کیوں ہے

    پڑوسی ہو تو پھل یا پھول لاتے

    تمہارے ہاتھ میں ہتھیار کیوں ہے

    زمیں پھیلی ہوئی ہے آسماں تک

    بس اک ٹکڑے پہ یوں تکرار کیوں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY