جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا

شاد عظیم آبادی

جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا

    بڑا گناہ یہاں ہے الف سے بے کہنا

    شب فراق میں سائے سے ڈر کے کہتا ہوں

    اجی یہ رات ڈرانی ہے جاگتے رہنا

    چمن میں پھول کھلے باغ میں بہار آئی

    عروس دہر نے گویا پہن لیا گہنا

    ہماری آہ و بکا سے ہے جسم شوق قوی

    یہ ہاتھ بایاں ہے اپنا وہ ہاتھ ہے دہنا

    فغان بلبل شیدا نہ جانیے اس کو

    بجا رہا ہے کوئی صحن باغ میں شحنہ

    غم فراق میں اے آسماں نہیں موقوف

    وہ جو سہائیں مجھے مجھ کو ہر طرح سہنا

    نکال دے کہ ہے ایسے میں جوئے اشک رواں

    برا ہے بات کا اے چشم دل میں لے رہنا

    گلی میں یار کی ہو یا کسی خرابے میں

    ہمیں تو حشر کے دن تک کہیں پہ مر رہنا

    اثر بھی شادؔ کے شعروں میں ہے متانت بھی

    یہ کہنہ مشق ہیں ان کی غزل کا کیا کہنا

    مآخذ :
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 81)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY