جہاں کھنچ رہے ہیں کسی کے اثر میں

شوق مرادابادی

جہاں کھنچ رہے ہیں کسی کے اثر میں

شوق مرادابادی

MORE BYشوق مرادابادی

    جہاں کھنچ رہے ہیں کسی کے اثر میں

    نہ جانے ہے کتنا فسوں اس نظر میں

    تری جستجو ہی مری زندگی ہے

    مرے نقش پا میں ہر اک رہ گزر میں

    مری راہ منزل نے کیوں روک لی ہے

    ابھی لطف آنے لگا تھا سفر میں

    زمیں بن گئی آسماں بن گئے ہیں

    خدا جانے کیا خوبیاں ہیں بشر میں

    اسے دہر فانی سے پھر کیا تعلق

    مقدر جسے لائے تیری نظر میں

    رہا دین کا اور نہ دنیا کا آخر

    الجھتا رہا جو اگر میں مگر میں

    وہ ظاہر سے ہی دیکھ لیتا ہے باطن

    یہ خوبی فقط شوقؔ ہے دیدہ ور میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY