جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا

پروین شاکر

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا

پروین شاکر

MORE BY پروین شاکر

    جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا

    کسی بھی رت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھا

    وہ خواب دیکھا تھا شہزادیوں نے پچھلے پہر

    پھر اس کے بعد مقدر میں تاج و تخت نہ تھا

    ذرا سے جبر سے میں بھی تو ٹوٹ سکتی تھی

    مری طرح سے طبیعت کا وہ بھی سخت نہ تھا

    مرے لیے تو وہ خنجر بھی پھول بن کے اٹھا

    زبان سخت تھی لہجہ کبھی کرخت نہ تھا

    اندھیری راتوں کے تنہا مسافروں کے لیے

    دیا جلاتا ہوا کوئی ساز و رخت نہ تھا

    گئے وہ دن کہ مجھی تک تھا میرا دکھ محدود

    خبر کے جیسا یہ افسانہ لخت لخت نہ تھا

    RECITATIONS

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان

    جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا صبیحہ خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites