جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں

فیض احمد فیض

جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں

فیض احمد فیض

MORE BY فیض احمد فیض

    جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں

    سجے گی کیسے شب نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں

    وہ تیرگی ہے رہ بتاں میں چراغ رخ ہے نہ شمع وعدہ

    کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں

    بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا

    ہر ایک اقرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بجھ گئے ہیں

    قریب آ اے مہ شب غم نظر پہ کھلتا نہیں کچھ اس دم

    کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے کون سے نام بجھ گئے ہیں

    بہار اب آ کے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشن رنگ و نغمہ

    وہ گل سر شاخ جل گئے ہیں وہ دل تہ دام بجھ گئے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    پریمیلا پوری

    پریمیلا پوری

    مآخذ:

    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 329)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY