جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹا

امداد علی بحر

جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹا

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹا

    آہ جب ہونٹھوں پر آئی تو کلیجہ الٹا

    رات بھر بیٹھے رہے منتظری میں اس کی

    صبح جب ہو گئی حسرت سے بچھونا الٹا

    حق بہ جانب ہے اگر ہم سے وہ مہوش پھر جائے

    چلن افلاک کا اوندھا ہے زمانا الٹا

    جائے حیرت ہے جو نفرت نہ ہو خود بینی سے

    نظر آتا ہے اس آئینے میں چہرا الٹا

    زینت رنگ بقا چاہتے ہیں نقش فنا

    اس مرقع کا دکھائی دیا نقشہ الٹا

    ملگجی چادر مہتاب نظر آنے لگی

    اس نے چہرے سے جو سوتے میں دوپٹا الٹا

    اب تو یاروں سے بھی یاری کی توقع نہ رہی

    حال پرسی کے عوض کرتے ہیں شکوا الٹا

    قفل دروازے میں کیوں آج نظر آتا ہے

    کون جھانکا تمہیں کس شخص نے پردا الٹا

    مر گیا میں جو مجھے پیار سے مارا اس نے

    سیدھی تلوار ہوا اس کا طمانچہ الٹا

    مے کدہ چھوڑ کے کیوں خم میں فلاطوں بیٹھا

    ایسی ہی عقل نے یونان کا تختہ الٹا

    مرض عشق میں آرام کسی طور نہیں

    کبھی سیدھا جو دم آیا تو کلیجہ الٹا

    پھر الٹ کر نہ خبر لی ہوئے ایسے غافل

    اب تو آؤ کہ میں دم لیتا ہوں الٹا الٹا

    نہ تو وہ پھول نہ کلیاں نہ وہ سبزہ نہ بہار

    رت کی پھرتی ہے چمن زار کا تختہ الٹا

    ایک جلوہ تو بھلا اور بھی وقت رخصت

    بہر گل باد بہاری کوئی جھونکا الٹا

    بحرؔ کیا کوچۂ جاناں سے پھرے گھر کی طرف

    کبھی دیکھا نہیں بہتے ہوئے دریا الٹا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY