جدھر وہ ہیں ادھر ہم بھی اگر جائیں تو کیا ہوگا

سید اعجاز احمد رضوی

جدھر وہ ہیں ادھر ہم بھی اگر جائیں تو کیا ہوگا

سید اعجاز احمد رضوی

MORE BYسید اعجاز احمد رضوی

    جدھر وہ ہیں ادھر ہم بھی اگر جائیں تو کیا ہوگا

    ارادے حشر میں یہ کام کر جائیں تو کیا ہوگا

    کسی نے آج تک اس کا پتہ پایا جو ہم پاتے

    مکان و لا مکاں سے بھی گزر جائیں تو کیا ہوگا

    یہ کلیوں کا تبسم اور یہ پھولوں کی رعنائی

    بہاروں میں اگر وہ بھی سنور جائیں تو کیا ہوگا

    یقیں وعدے کا ان کے خود فریبی ہی سہی لیکن

    یہ دو دن بھی امیدوں میں گزر جائیں تو کیا ہوگا

    غنیمت ہے وہ صبح حشر سے پہلے چلے آئے

    شب آخر بھی نالے بے اثر جائیں تو کیا ہوگا

    جدھر شیخ و برہمن پھر رہے تھے ڈھونڈتے رضویؔ

    اسی جانب ترے شوریدہ سر جائیں تو کیا ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY