جس کو دیکھو وہی پیکار میں الجھا ہوا ہے

خورشید طلب

جس کو دیکھو وہی پیکار میں الجھا ہوا ہے

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    جس کو دیکھو وہی پیکار میں الجھا ہوا ہے

    ہر گریبان کسی تار میں الجھا ہوا ہے

    دشت بے چین ہے وحشت کی پذیرائی کو

    دل وحشی در و دیوار میں الجھا ہوا ہے

    جنگ دستک لیے آ پہنچی ہے دروازے تک

    شاہزادہ لب و رخسار میں الجھا ہوا ہے

    اک حکایت لب اظہار پہ ہے سوختہ جاں

    ایک قصہ ابھی کردار میں الجھا ہوا ہے

    سر کی قیمت مجھے معلوم نہیں ہے لیکن

    آسماں تک مری دستار میں الجھا ہوا ہے

    آئیے بیچ کی دیوار گرا دیتے ہیں

    کب سے اک مسئلہ بے کار میں الجھا ہوا ہے

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 146)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY