جس رہ گزر سے گزرے وہی خار دار تھی

فرخ عباس

جس رہ گزر سے گزرے وہی خار دار تھی

فرخ عباس

MORE BYفرخ عباس

    جس رہ گزر سے گزرے وہی خار دار تھی

    یہ زندگی سکون کا اک انتظار تھی

    ہیں اب جہاں عروج پہ نفرت کی آندھیاں

    اس شہر کی فضا بھی کبھی سازگار تھی

    گر میرے لوٹنے کا تجھے کچھ گلہ نہ تھا

    کیوں روکتی نگاہ تری بار بار تھی

    پلٹے ہیں جاں جو شہر وفا سے بچا کے ہم

    کچھ ساتھ اپنے رحمت پروردگار تھی

    کس طرح کرتا یاد کو سوچوں سے تو جدا

    فرخؔ تری تو فکر بھی بے اختیار تھی

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 131)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY