جس سورج کی آس لگی ہے شاید وہ بھی آئے

جمیل الدین عالی

جس سورج کی آس لگی ہے شاید وہ بھی آئے

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    جس سورج کی آس لگی ہے شاید وہ بھی آئے

    تم یہ کہو خود تم نے اب تک کتنے دیئے جلائے

    اپنا کام ہے صرف محبت باقی اس کا کام

    جب چاہے وہ روٹھے ہم سے جب چاہے من جائے

    کیا کیا روگ لگے ہیں دل کو کیا کیا ان کے بھید

    ہم سب کو سمجھانے والے کون ہمیں سمجھائے

    ایک اسی امید پہ ہیں سب دشمن دوست قبول

    کیا جانے اس سادہ روی میں کون کہاں مل جائے

    دنیا والے سب سچے پر جینا ہے اس کو بھی

    ایک غریب اکیلا پاپی کس کس سے شرمائے

    اتنا بھی مجبور نہ کرنا ورنہ ہم کہہ دیں گے

    او عالؔی پر ہنسنے والے تو عالی بن جائے

    مآخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 175)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY