جس طرف دیکھو نظر آتے ہیں طعنے والے

سید غافر رضوی فلک چھولسی

جس طرف دیکھو نظر آتے ہیں طعنے والے

سید غافر رضوی فلک چھولسی

MORE BYسید غافر رضوی فلک چھولسی

    جس طرف دیکھو نظر آتے ہیں طعنے والے

    ہیں کہاں نغمۂ دلگیر سنانے والے

    کس سے روٹھیں گے بھلا کون منائے گا ہمیں

    زینت شہر خموشاں ہیں منانے والے

    اب تو تعبیر بھی برعکس نظر آتی ہے

    گم ہوئے جانے کہاں خواب سہانے والے

    یہ زمانہ کا تقاضہ ہے کروں آہ و بکا

    ورنہ یہ لب تھے ہمیشہ سے ترانے والے

    کیسے اظہار کروں عشق خفی کا تم سے

    مجھ کو مجنوں کا لقب دیں گے زمانے والے

    یہ کرشمہ بھی تمہاری ہی محبت سے ہوا

    مٹ گئے ہم کو زمانے سے مٹانے والے

    دھڑکنیں اپنے احاطہ سے نکل آئی ہیں

    ایسا لگتا ہے کہ نزدیک ہیں آنے والے

    خنجر ظلم نے یوں ہی تو گلا چوما ہے

    ہم ہیں نیزے پہ بھی قرآن سنانے والے

    ہم تو تلوار کو خود اپنی زباں دیتے ہیں

    ہم ہیں ہر حال میں وعدہ کو نبھانے والے

    اس سے آگے تو فقط ساتھ فلکؔ ہے میرے

    قبر تک جائیں گے کاندھوں پہ اٹھانے والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY