جس طرح کی ہیں یہ دیواریں یہ در جیسا بھی ہے

انور مسعود

جس طرح کی ہیں یہ دیواریں یہ در جیسا بھی ہے

انور مسعود

MORE BY انور مسعود

    جس طرح کی ہیں یہ دیواریں یہ در جیسا بھی ہے

    سر چھپانے کو میسر تو ہے گھر جیسا بھی ہے

    اس کو مجھ سے مجھ کو اس سے نسبتیں ہیں بے شمار

    میری چاہت کا ہے محور یہ نگر جیسا بھی ہے

    چل پڑا ہوں شوق بے پروا کو مرشد مان کر

    راستہ پر پیچ ہے یا پر خطر جیسا بھی ہے

    سب گوارا ہے تھکن ساری دکھن ساری چبھن

    ایک خوشبو کے لئے ہے یہ سفر جیسا بھی ہے

    وہ تو ہے مخصوص اک تیری محبت کے لئے

    تیرا انورؔ با ہنر یا بے ہنر جیسا بھی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites