جسے میں سمجھتا ہوں قاتل یہی ہے

ارم لکھنوی

جسے میں سمجھتا ہوں قاتل یہی ہے

ارم لکھنوی

MORE BYارم لکھنوی

    جسے میں سمجھتا ہوں قاتل یہی ہے

    محبت اسی سے ہے مشکل یہی ہے

    عداوت ہوئی برق سے باغباں سے

    نشیمن بنانے کا حاصل یہی ہے

    تڑپنا برابر تڑپتے ہی رہنا

    ترے در پہ انداز بسمل یہی ہے

    بہت دور منزل مگر ہر قدم پر

    تھکن کا تقاضا کہ منزل یہی ہے

    مرے قتل کا ذکر ہے اور وہ چپ ہے

    خموشی نہ کہہ دے کہ قاتل یہی ہے

    مجھے تو ہنسی اپنے غم پر نہ آتی

    مگر کیا کروں رنگ محفل یہی ہے

    وہاں سے ارمؔ ہم ہٹا لائے کشتی

    یہاں یہ سمجھنا تھا ساحل یہی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ارم لکھنوی

    ارم لکھنوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY