جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میں (ردیف .. ا)

شاد عظیم آبادی

جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میں (ردیف .. ا)

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میں

    وہی بانی ہوا میرے غم و درد و اذیت کا

    اسی کے ہاتھ سے کیا کیا سہا سہنا ہے کیا کیا کچھ

    الٰہی دو جہاں میں منہ ہو کالا اس مروت کا

    کریں انصاف کا دعویٰ اثر کچھ بھی نہ ظاہر ہو

    مزا چکھا ہے ایسے دوستوں سے بھی محبت کا

    مٹائیں تاکہ اپنے ظلم کرنے کی ندامت کو

    نکالیں ڈھونڈ کر ہر طرح سے پہلو شکایت کا

    حسد جی میں بھرا ہے لاگ ہے اک عمر سے دل میں

    کریں ظاہر اگر موقع ہے اظہار عداوت کا

    طمع میں کچھ نہ سمجھیں باپ اور بھائی کی حرمت کو

    عمل دیکھو تو یہ پھر کچھ کریں دعوا شرافت کا

    مری عمر دو روزہ بیکسی کے ساتھ کٹتی ہے

    نہ اپنوں سے نہ غیروں سے ملا ثمرہ ریاضت کا

    جسے دیکھا جسے پایا غرض کا اپنی بندہ تھا

    جہاں میں اب مزا باقی نہیں خالص محبت کا

    ہمارا کلبۂ احزاں ہے ہم ہیں یا کتابیں ہیں

    رہا باقی نہ کوئی ہم نشیں اب اپنی قسمت کا

    خدا آباد رکھے شادؔ میرے ان عزیزوں کو

    مزا چکھوا دیا القرض مقراض المحبت کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY