جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے

رفیق راز

جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے

    روح اک غار ہے اس غار میں گھر کرنا ہے

    ایک ہی قطرہ تو ہے اشک ندامت کا بہت

    کون سے دشت و بیابان کو تر کرنا ہے

    جلتے رہنا بھی ہے دیوار پہ فانوس کے بن

    بے زرہ معرکۂ باد بھی سر کرنا ہے

    خاک ہو جانے پہ اے خاک بسر کیوں ہو بضد

    کیا تمہیں دوش ہوا پر بھی سفر کرنا ہے

    اب ان آنکھوں میں وہ دریا کہاں وہ چشمے کہاں

    چند قطرے ہیں جنہیں لعل و گہر کرنا ہے

    فتح گلزار مبارک ہو مگر یاد رہے

    ابھی نا دیدہ بیابان بھی سر کرنا ہے

    کچھ تو ہے رنگ سا احساس کے پردے میں نہاں

    جس کو منظر کی طرح وقف نظر کرنا ہے

    گل نوخیز کو تیشہ بھی بنا دے یارب

    سنگ لب بستہ کے سینے میں اثر کرنا ہے

    ایک نیزے پہ لگانے ہیں کئی میوۂ سر

    ایک ٹہنی کو ثمر دار شجر کرنا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے