جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

احمد فراز

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

    کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے

    کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی

    بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے

    اب اک ہجوم شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے

    جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے

    کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشا

    سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے

    بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو

    اسی جنوں میں تو برباد گھر ہمارے ہوئے

    وہ اعتماد کہاں سے فرازؔ لائیں گے

    کسی کو چھوڑ کے وہ اب اگر ہمارے ہوئے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY