جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھے

احمد ندیم قاسمی

جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھے

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھے

    منافعے تھے محبت میں نے خسارے تھے

    حضور شاہ بس اتنا ہی عرض کرنا ہے

    جو اختیار تمہارے تھے حق ہمارے تھے

    یہ اور بات بہاریں گریز پا نکلیں

    گلوں کے ہم نے تو صدقے بہت اتارے تھے

    خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں

    وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے

    اب اذن ہو تو تری زلف میں پرو دیں پھول

    کہ آسماں کے ستارے تو استعارے تھے

    قریب آئے تو ہر گل تھا خانۂ زنبور

    ندیمؔ دور کے منظر تو پیارے پیارے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY