جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

حبیب کیفی

جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

حبیب کیفی

MORE BYحبیب کیفی

    جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

    وہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہے

    وہ بھول بیٹھے نشہ کر کے اپنی دولت کا

    نشہ کوئی بھی ہو اک دن ہوا بھی ہوتا ہے

    کبھی کبھی ہی سہی جیب بھاری ہوتی ہے

    کبھی کبھی تو یہ بندہ خدا بھی ہوتا ہے

    میں اس حسین کو یہ بات کیسے سمجھاؤں

    جو بہترین ہے اس سے سوا بھی ہوتا ہے

    تمہاری بات کا میں نے برا کہاں مانا

    جو اپنا ہوتا ہے اس سے گلا بھی ہوتا ہے

    کسی مریض سے کہنا کہ آپ اچھے ہیں

    یہ بات کہنے کا مطلب دوا بھی ہوتا ہے

    یہ بات میرے سوا جانتا نہیں کوئی

    کہ اس کی بات میں گہرا نشہ بھی ہوتا ہے

    کبھی جو گالیاں دے ماں تو یہ سمجھ لینا

    کہ اس کی گالی کا مطلب دعا بھی ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY