جو نقش مٹ چکا ہے بنانا تو ہے نہیں

نبیل احمد نبیل

جو نقش مٹ چکا ہے بنانا تو ہے نہیں

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    جو نقش مٹ چکا ہے بنانا تو ہے نہیں

    اجڑا دیار ہم نے بسانا تو ہے نہیں

    آنکھوں کے دیپ راہ میں اس کے جلائیں کیا

    اس نے پلٹ کے پھر کبھی آنا تو ہے نہیں

    لازم ہے چلنا زیست کی راہوں پہ بھی مگر

    جو گر پڑے کسی نے اٹھانا تو ہے نہیں

    بھر جائے گا یہ تھوڑی سی چارہ گری کے بعد

    تازہ لگا ہے زخم پرانا تو ہے نہیں

    کب تک وفا کے معنی بتاتا رہوں اسے

    اس بے وفا نے راہ پہ آنا تو ہے نہیں

    کچھ دیر ٹھہر جائے وہ خود ہی خدا کرے

    اس بار کوئی ایسا بہانا تو ہے نہیں

    پھر خواہشوں کے پیڑ پہ بیٹھیں گے دیکھنا

    ان پنچھیوں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں

    اللہ رے وفائیں یہ خوبان شہر کی

    منظر دھواں دھواں ہے سہانا تو ہے نہیں

    منسوب کر دوں میں جو تری زندگی کے ساتھ

    یادوں کا میرے پاس خزانہ تو ہے نہیں

    کیوں پھر کسی کے دل میں محبت بسائیں ہم

    جب عاشقی میں نام کمانا تو ہے نہیں

    قسمت ہے اس کے سامنے بن جائے کوئی بات

    ویسے کوئی بھی بات بنانا تو ہے نہیں

    سوچوں تو سارے لوگ نشانے پہ ہیں مگر

    دیکھوں کوئی کسی کا نشانہ تو ہے نہیں

    وہ اپنا درد آپ سنائے تو بات ہے

    ہم نے کسی کا درد سنانا تو ہے نہیں

    اک دوسرے کی گھات میں بیٹھے ہیں سب مگر

    اس وقت نے کسی کو بچانا تو ہے نہیں

    ہے طائران شوق کا مسلک تو خامشی

    ہے مصلحت کہ شور مچانا تو ہے نہیں

    عشق و نظر کا دائمی رشتہ ازل سے ہے

    مجنوں نے شہر چھوڑ کے جانا تو ہے نہیں

    حاصل کیا نہ اس لیے تعمیر کا ہنر

    ہم نے نیا جہان بسانا تو ہے نہیں

    کیسے رسائی ہو مری اس کے مزاج تک

    احوال اس نے دل کا سنانا تو ہے نہیں

    محروم ہم نہ ہوں کبھی ماں کی دعاؤں سے

    نایاب ایسا کوئی خزانہ تو ہے نہیں

    دیکھے گا کون چاک گریبان کو نبیلؔ

    فرہاد و قیس کا یہ زمانہ تو ہے نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY