جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

اعجاز گل

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

    اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے

    مسافرت کا ہنر ہے نہ واپسی کی خبر

    سو چل رہا ہوں جدھر بھی یہ راستا گیا ہے

    اماں کو نیل میسر نہ میں کوئی موسیٰ

    مجھے سپرد فراعین کر دیا گیا ہے

    سبب نہیں تھا زمیں پر اتارنے کا مجھے

    سبب بغیر ہی واپس اٹھا لیا گیا ہے

    یہ منتہا ہے مری نارسائی کا شاید

    جو دور حد نظر سے پرے خلا گیا ہے

    مہک اٹھے ہیں مرے باغ کے خس و خاشاک

    کوئی ٹہلتا ہوا صورت صبا گیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY