جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گا

عابد عمر

جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گا

عابد عمر

MORE BYعابد عمر

    جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گا

    وگرنہ تجھ کو کہیں خاک میں پڑا ملوں گا

    تو سالوں بعد بھی مجھ کو منانے آئے تو

    میں اپنی ایک ہی ضد پر تجھے اڑا ملوں گا

    تو خود کو یوں ہی گراتا رہا تو آخر کار

    میں تیرے قد سے تجھے سو گنا بڑا ملوں گا

    لکیر کھینچ کے رکھنا تسلی کی خاطر

    کہ اپنی حد سے نہ یکسر تجھے بڑھا ملوں گا

    ہوں با وفا تو مرا سر نہیں جھکے گا کبھی

    جو بے وفا ہوں تو پھر شرم سے گڑا ملوں گا

    صداقتیں مری شاداب ہی رکھیں گی مجھے

    میں زرد پتا نہیں ہوں کہ جو جھڑا ملوں گا

    ستم سے بھاگ کے جینا ہے موت سے بد تر

    برائے حق میں تجھے دار پر چڑھا ملوں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY