جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے

پیام فتحپوری

جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے

پیام فتحپوری

MORE BYپیام فتحپوری

    جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے

    ہمیں شہریار حیات تھے ہمیں زندگی کو ترس گئے

    یہ عجیب صبح بہار ہے کوئی زندگی کی کرن نہیں

    ہمیں خالق مہ و مہر ہیں ہمیں روشنی کو ترس گئے

    یہ چمن ہے کیسا چمن جہاں تہی دامنی ہی نصیب ہے

    یہ بہار کیسی بہار ہے کہ کلی کلی کو ترس گئے

    نہ کرم نہ کوئی عتاب ہے کوئی اس ادا کا جواب ہے

    کبھی دوستی کو ترس گئے کبھی دشمنی کو ترس گئے

    وہی منزلوں سے بھٹک گئے نہ جنوں کے ساتھ جو چل سکے

    جو فریب ہوش میں آ گئے رہ آگہی کو ترس گئے

    ہے عجب نصیب بھی عشق کا نہ وفا ملی نہ جفا ملی

    ترے التفات کی کیا خبر تری بے رخی کو ترس گئے

    میں پیامؔ کافر عشق ہوں مری گمرہی بھی ہے بندگی

    کہ فدائے کعبہ و دیر بھی مری کافری کو ترس گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY