جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

شاعر لکھنوی

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

شاعر لکھنوی

MORE BYشاعر لکھنوی

    جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

    وہ نظر نظر سے گلے ملے تو بجھے چراغ بھی جل گئے

    یہ شکست دید کی کروٹیں بھی بڑی لطیف و جمیل تھیں

    میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے

    نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی

    یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل گئے

    جو سنبھل سنبھل کے بہک گئے وہ فریب خوردۂ راہ تھے

    وہ مقام عشق کو پا گئے جو بہک بہک کے سنبھل گئے

    جو کھلے ہوئے ہیں روش روش وہ ہزار حسن چمن سہی

    مگر ان گلوں کا جواب کیا جو قدم قدم پہ کچل گئے

    نہ ہے شاعرؔ اب غم نو بہ نو نہ وہ داغ دل نہ وہ آرزو

    جنہیں اعتماد بہار ہے وہی پھول رنگ بدل گئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مہدی حسن

    مہدی حسن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY