جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں

بیاں احسن اللہ خان

جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں

بیاں احسن اللہ خان

MORE BYبیاں احسن اللہ خان

    جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں

    آسماں پر دماغ رکھتے ہیں

    ساقی بھر بھر انہیں کو دے ہے شراب

    جو کہ لبریز ایاغ رکھتے ہیں

    تیرے داغوں کی دولت اے گل رو

    ہم بھی سینے میں باغ رکھتے ہیں

    حاجت شمع کیا ہے تربت پر

    ہم کہ دل سا چراغ رکھتے ہیں

    آپ کو ہم نے کھو دیا ہے بیاںؔ

    آہ کس کا سراغ رکھتے ہیں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY