جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو

ضیا فتح آبادی

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو

ضیا فتح آبادی

MORE BY ضیا فتح آبادی

    INTERESTING FACT

    (مدراس۔ 1958)

    جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو

    ہوس نے عشق کو گھیرا ہے دیکھیے کیا ہو

    گئی بہار مگر آج بھی بہار کی یاد

    دل حزیں کا سہارا ہے دیکھیے کیا ہو

    خموش شمع محبت ہے پھر بھی حسن کی ضو

    گلوں سے تا بہ ثریا ہے دیکھیے کیا ہو

    شب فراق کی بڑھتی ہوئی سیاہی میں

    خدا کو میں نے پکارا ہے دیکھیے کیا ہو

    وہی جفاؤں کا عالم وہی ہے مشق ستم

    وہی وفا کا تقاضا ہے دیکھیے کیا ہو

    غم بتاں میں کٹی عمر اور اب دل کو

    شکایت غم دنیا ہے دیکھیے کیا ہو

    ہزار بار ہی دیکھا ہے سوچنے کا مآل

    ہزار بار ہی سوچا ہے دیکھیے کیا ہو

    مرا شباب ترا حسن اور سایۂ ابر

    شراب‌ و شعر مہیا ہے دیکھیے کیا ہو

    ضیاؔ جو پی کے نہ بہکا وہ رند مستی کوش

    پئے بغیر بہکتا ہے دیکھیے کیا ہو

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY