جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

شکیل بدایونی

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

شکیل بدایونی

MORE BY شکیل بدایونی

    جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

    ہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہے

    جہاں عشق میں ڈوب کر رہ گئے ہیں

    وہیں پھر ابھرنے کو جی چاہتا ہے

    وہ ہم سے خفا ہیں ہم ان سے خفا ہیں

    مگر بات کرنے کو جی چاہتا ہے

    ہے مدت سے بے رنگ نقش محبت

    کوئی رنگ بھرنے کو جی چاہتا ہے

    بہ ایں خود سری وہ غرور محبت

    انہیں سجدہ کرنے کو جی چاہتا ہے

    قضا مژدۂ زندگی لے کے آئے

    کچھ اس طرح مرنے کو جی چاہتا ہے

    نظام دو عالم کی ہو خیر یارب

    پھر اک آہ کرنے کو جی چاہتا ہے

    گناہ مکرر شکیلؔ اللہ اللہ

    بگڑ کر سنورنے کو جی چاہتا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY