جرأت اظہار سے روکے گی کیا

فضا ابن فیضی

جرأت اظہار سے روکے گی کیا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    جرأت اظہار سے روکے گی کیا

    مصلحت میرا قلم چھینے گی کیا

    میں مسافر دن کی جلتی دھوپ کا

    رات میرا درد پہچانے گی کیا

    بے کراں ہوں میں سمندر کی طرح

    موج شبنم قد مرا ناپے گی کیا

    چل پڑا ہوں سر پہ لے کر آسماں

    پاؤں کے نیچے زمیں ٹھہرے گی کیا

    شہر گل کی رہنے والی آگہی

    مرے زخموں کی زباں سمجھے گی کیا

    چہرہ چہرہ عالم بے چہرگی

    دیکھ کر بھی زندگی دیکھے گی کیا

    میں تو لوگو سہہ لوں ہر پتھر کا جبر

    وقت کی شیشہ گری سوچے گی کیا

    حسرتوں کی آنچ میں اس کو تپا

    یوں بدن کی تیرگی پگھلے گی کیا

    نطق سے لب تک ہے صدیوں کا سفر

    خامشی یہ دکھ بھلا جھیلے گی کیا

    کیا توقع کور ذہنوں سے فضاؔ

    کوئلوں سے روشنی پھوٹے گی کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY