جوئے طلب کے لمس میں موج فنا ملی
جوئے طلب کے لمس میں موج فنا ملی
اک جھیل خوفناک سمندر سے جا ملی
پرچھائیں سا پھرا ہوں چراغ ہوس جلائے
شاید یہ تیرے جسم سے مجھ کو دعا ملی
شاخوں سے جھانکتی رہی پت جھڑ کی چاندنی
ننگے شجر کے جسم کو دوہری سزا ملی
زہر خموش لے کے جو ہم تم چلے تھے رات
وہ راہ حرف شوق بھی جنگل سے آ ملی
تجھ سے ملے تو خوں کا جہنم بھڑک اٹھا
پلٹے تو سر پہ گرتی فصیل ہوا ملی
ساحل ہوں سورجوں کی جلن پی رہا ہوں میں
وہ کون ہیں جنہیں کہ بھنور کی صدا ملی
اب اس سیہ جزیرے سے واپس پلٹ چلو
کیا ہوگا آگے بھی جو زمیں بے خدا ملی
یہ بھی مصورؔ اس کے مشام وفا کا رنگ
مجھ کو جو زخم زخم بدن کی قبا ملی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.