جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

مومن خاں مومن

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

مومن خاں مومن

MORE BY مومن خاں مومن

    جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

    اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

    پالغز محبت سے مشکل ہے سنبھل جانا

    اس رخ کی صفائی پر اس دل کا بہل جانا

    سینہ میں جو دل تڑپا دھر ہی تو دیا دیکھا

    پھر بھول گیا کیسا میں ہاتھ کا پھل جانا

    اتنا تو نہ گھبراؤ راحت یہیں فرماؤ

    گھر میں مرے رہ جاؤ آج اور بھی کل جانا

    اے دل وہ جو یاں آیا کیا کیا ہمیں ترسایا

    تو نے کہیں سکھلایا قابو سے نکل جانا

    کیا ایسے سے دعویٰ ہو محشر میں کہ میں نے تو

    نظارۂ قاتل کو احسان اجل جانا

    ہے ظلم کرم جتنا تھا فرق پڑا کتنا

    مشکل ہے مزاج اتنا اک بار بدل جانا

    حوروں کی ثنا خوانی واعظ یوں ہی کب مانی

    لے آ کہ ہے نادانی باتوں میں بہل جانا

    عشق ان کی بلا جانے عاشق ہوں تو پہچانے

    لو مجھ کو اطبا نے سودے کا خلل جانا

    کیا باتیں بناتا ہے وہ جان جلاتا ہے

    پانی میں دکھاتا ہے کافور کا جل جانا

    مطلب ہے کہ وصلت میں ہے بوالہوس آفت میں

    اس گرمی صحبت میں اے دل نہ پگھل جانا

    دم لینے کی طاقت ہے بیمار محبت ہے

    اتنا بھی غنیمت ہے مومنؔ کا سنبھل جانا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY