کام اچھے برے انجام دئے ہیں میں نے
کام اچھے برے انجام دئے ہیں میں نے
اور پھر یار کو الزام دئے ہیں میں نے
وہ جو تجھ تک کبھی پہنچیں نہ پہنچ پائیں گی
ان ہواؤں کو بھی پیغام دئے ہیں میں نے
آج کل اس کو محبت بھی کہا جاتا ہے
اپنی وحشت کو کئی نام دئے ہیں میں نے
لوگ اپنی ہی کہانی نہ سمجھ لیں اس کو
سو حوالے سبھی گمنام دئے ہیں میں نے
یار ترکشؔ تو مرے سامنے اب سادھ نہ بن
اپنے ہاتھوں سے تجھے جام دئے ہیں میں نے
- کتاب : اداس لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے (Pg. 35)
- Author : ترکش پردیپ
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2023)
- اشاعت : 2nd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.