کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی

افضل منہاس

کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی

افضل منہاس

MORE BYافضل منہاس

    کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی

    اور بھرے بازار میں تجھ کو حیا بھی آئے گی

    عطر میں کپڑے بسا کر مطمئن ہے کس لئے

    با وفا ہو جا کہ یوں بوئے وفا بھی آئے گی

    دیکھ لے ساحل سے جی بھر کے مچلتی لہر کو

    اس طرف کچھ دیر میں موج فنا بھی آئے گی

    دودھیا نازک گلے میں باندھ لے تعویذ کو

    آج سنتا ہوں کہ بستی میں بلا بھی آئے گی

    رات کے پچھلے پہر دستک کا رکھ لینا خیال

    پتے کھڑکیں گے ذرا آواز پا بھی آئے گی

    اجلی اجلی خواہشوں پر نیند کی چادر نہ ڈال

    یاد کے روزن سے کچھ تازہ ہوا بھی آئے گی

    جا چکے سارے بگولے فکر کی کیا بات ہے

    کھیت کو سیراب کرنے اب گھٹا بھی آئے گی

    دور کے لوگوں کو نظروں میں بسا کر دیکھ لے

    قرب مل جائے گا آنکھوں میں جلا بھی آئے گی

    شہر نا پرساں کے منظر نقش کر لے ذہن میں

    آنکھ رستے میں کوئی منظر گرا بھی آئے گی

    دل کی مسجد میں کبھی پڑھ لے تہجد کی نماز

    پھر سحر کے وقت ہونٹوں پر دعا بھی آئے گی

    زندگی کا یہ مرض افضلؔ چلا ہی جائے گا

    تیرے ہاتھوں میں کبھی خاک شفا بھی آئے گی

    مآخذ :
    • کتاب : siip (Magzin) (Pg. 235)
    • Author : Nasiim Durraani
    • مطبع : Fikr-e-Nau (39 (Quarterly))
    • اشاعت : 39 (Quarterly)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY