کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

یگانہ چنگیزی

کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

یگانہ چنگیزی

MORE BYیگانہ چنگیزی

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

    اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

    بے دلوں کی ہستی کیا جیتے ہیں نہ مرتے ہیں

    خواب ہے نہ بیداری ہوش ہے نہ مستی ہے

    کیا بتاؤں کیا ہوں میں قدرت خدا ہوں میں

    میری خود پرستی بھی عین حق پرستی ہے

    کیمیائے دل کیا ہے خاک ہے مگر کیسی

    لیجئے تو مہنگی ہے بیچئے تو سستی ہے

    خضر منزل اپنا ہوں اپنی راہ چلتا ہوں

    میرے حال پر دنیا کیا سمجھ کے ہنستی ہے

    کیا کہوں سفر اپنا ختم کیوں نہیں ہوتا

    فکر کی بلندی یا حوصلے کی پستی ہے

    حسن بے تماشا کی دھوم کیا معما ہے

    کان بھی ہیں نامحرم آنکھ بھی ترستی ہے

    چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا

    چال سے تو کافر پر سادگی برستی ہے

    ترک لذت دنیا کیجئے تو کس دل سے

    ذوق پارسائی کیا فیض تنگ دستی ہے

    دیدنی ہے یاسؔ اپنے رنج و غم کی طغیانی

    جھوم جھوم کر کیا کیا یہ گھٹا برستی ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل,

    فصیح اکمل

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے