کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

MORE BYمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی

    کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی

    دل نہ تھا تو تنگئ‌ فرصت کبھی ایسی نہ تھی

    یاس سے ویرانئ‌ حسرت کبھی ایسی نہ تھی

    دل میں سناٹا نہ تھا وحشت کبھی ایسی نہ تھی

    ان کے وعدہ پر ہمیں جینا پڑا ہے حشر تک

    ورنہ طولانی شب فرقت کبھی ایسی نہ تھی

    دیکھ ڈالے زندگی میں وصل‌ و فرقت کے طلسم

    غم کبھی ایسا نہ تھا راحت کبھی ایسی نہ تھی

    آپ نے بیمار پرسی کی تو جینا ہے وبال

    ورنہ مرنے کی مجھے حسرت کبھی ایسی نہ تھی

    بامزا ہے کس قدر انکار ان کا وصل میں

    تجھ میں اے خون جگر لذت کبھی ایسی نہ تھی

    دل کو کیا سمجھا دیا نومیدیٔ جاوید نے

    پردہ دار غم شب فرقت کبھی ایسی نہ تھی

    زندگی کی کش مکش سے مر کے پائی کچھ نجات

    اس سے پہلے اے نظرؔ فرصت کبھی ایسی نہ تھی

    مآخذ :
    • کتاب : Noquush (Pg. B-426 E436)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY