کاش کہ جو پہچانا ہوتا اپنوں کو بیگانوں کو

منتظر فیروز آبادی

کاش کہ جو پہچانا ہوتا اپنوں کو بیگانوں کو

منتظر فیروز آبادی

MORE BYمنتظر فیروز آبادی

    کاش کہ جو پہچانا ہوتا اپنوں کو بیگانوں کو

    اشکوں سے پھر تھوڑے ہی بھرتے اپنے ہی پیمانوں کو

    میرے دل کو سب نے سمجھا ایک کرائے کا کمرہ

    جانے کتنے زخم دئے تھے میں نے بھی مہمانوں کو

    پھول سا نازک رشتہ تھا وہ اب تم اس کو جانے دو

    کانٹوں سے بھر رکھا تھا ہم نے اپنے گل دانوں کو

    سارے گھر کی رونق تھا جو وہ بھی ہم کو چھوڑ گیا

    کیوں گالی دیتے رہتے ہیں کمروں کو دالانوں کو

    اب جب آگے ہی بڑھنا ہے مٹی ڈالیں ختم کریں

    آخر کب تک ڈھوئیں گے ہم ان پیارے افسانوں کو

    کشتی جب ہو بیچ سفر میں عشق سمندر صحرا کیا

    منزل کی جانب اب دیکھو چھوڑو بھی طوفانوں کو

    تہذیبیں تو یہ کہتی ہیں وصل کی خاطر ضبط کرو

    ضبط سے ہوتا کیا ہی حاصل مار دیا ارمانوں کو

    جنت میں بھی دوزخ کا ہی سوگ مناتے رہتے ہیں

    خوشیاں راس نہیں آتیں ہیں ہم جیسے انسانوں کو

    قتل نہ ہوگا تم سے میرا میں اپنا ہی دشمن ہوں

    آگ لگا دو بندوقوں میں پھینکو تیر کمانوں کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے