کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں

فہمیدہ ریاض

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں

    وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں

    میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت

    کشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں

    وہ اک صدا جو فریب صدا سے بھی کم ہے

    نہ ڈوب جائے کہیں تند رو ہواؤں میں

    سکوت شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز

    کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں

    مری طرح یوں ہی گم کردہ راہ چھوڑے گی

    تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں

    نقوش پاؤں کے لکھتے ہیں منزل نا یافت

    مرا سفر تو ہے تحریر میری راہوں میں

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں عذرا نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY