کبھی جھوٹے سہارے غم میں راس آیا نہیں کرتے

نشور واحدی

کبھی جھوٹے سہارے غم میں راس آیا نہیں کرتے

نشور واحدی

MORE BY نشور واحدی

    INTERESTING FACT

    مشہور ناقد کلیم الدین احمد نے غزل کو نیم وحشی صنف سخن قرار دیا مگر آخری وقتوں میں غزل کی چاشنی کے مرید ہو گئے تھے ۔ ایک دن کسی نے پوچھا کہ آخر یہ کیسے ہوا تو انھوں نے بتایا کہ میں ایک روز ریڈیو پر مشاعرہ سن رہا تھا تو تو ایک شاعر لحن میں یہ غزل پڑھ رہے ۔ ان کی غزل کے اشعار نے جس نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔

    کبھی جھوٹے سہارے غم میں راس آیا نہیں کرتے

    یہ بادل اڑ کے آتے ہیں مگر سایا نہیں کرتے

    یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں

    کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے

    وہ لے لیں گوشۂ دامن میں اپنے یا فلک چن لے

    مری آنکھوں میں آنسو بار بار آیا نہیں کرتے

    سلیقہ جن کو ہوتا ہے غم دوراں میں جینے کا

    وہ یوں شیشے کو ہر پتھر سے ٹکرایا نہیں کرتے

    جو قیمت جانتے ہیں گرد راہ زندگانی کی

    وہ ٹھکرائی ہوئی دنیا کو ٹھکرایا نہیں کرتے

    قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے

    جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے

    نشورؔ اہل زمانہ بات پوچھو تو لرزتے ہیں

    وہ شاعر ہیں جو حق کہنے سے کترایا نہیں کرتے

    مآخذ:

    • کتاب : Sawad-e-manzil (Pg. 253)
    • Author : Nushoor Wahedi
    • مطبع : Maktaba Jamia Ltd, Delhi (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY