کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

اعجاز گل

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

    میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ

    بنا ہوا ہے تعلق سا استواری کا

    مرے طواف سے اس محور و مدار کے بیچ

    کہ آتا جاتا رہے عکس حیرتی اس میں

    بچھا دیا گیا آئینہ آر پار کے بیچ

    ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو

    خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ

    یہ میں ہوں تو ہے ہیولیٰ ہے ہر مسافر کا

    جو مٹ رہا ہے تھکن سے ادھر غبار کے بیچ

    کوئی لکیر سی پانی کی جھلملاتی ہے

    کبھی کبھی مرے متروک آبشار کے بیچ

    میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے الٹ

    تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY